امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان کے بعد قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی آج تہران پہنچیں گے، جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں انہیں کسی قسم کی جلدی نہیں۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کے خلاف معاشی اور فوجی اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور مذاکرات کے لیے ان کے پاس کافی وقت موجود ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق قطری وزیراعظم کے دورۂ تہران کے دوران خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمٰن ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
قطر نے واضح کیا ہے کہ ایران کا دورہ اختلافات کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اس کی پالیسی کا تسلسل ہے۔
دورے کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔ ان کے مطابق اسے مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو 17 جون کی مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدوں پر واپس آنا ہوگا۔






