ایران کے خلاف جاری طویل جنگ اور مسلسل فوجی تعیناتی کے باعث امریکی بحری اہلکاروں میں ذہنی دباؤ بڑھنے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طویل عرصے سے سمندر میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات بعض اہلکاروں نے مبینہ طور پر سمندر میں کود کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹس میں ایک اہلکار کی اہلیہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مسلسل اور طویل ڈیوٹی سے شدید دباؤ کا شکار ان کے شوہر نے جہاز سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ جہاز کے عملے نے متعدد اہلکاروں کو ایسے اقدامات سے روکنے کی کوشش کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق طویل تعیناتی کے باعث جہاز پر موجود اہلکاروں کو ذہنی دباؤ کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات سے متعلق مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ بعض رپورٹس میں خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد بعض امریکی سینیٹرز نے طیارہ بردار بحری جہاز پر موجود اہلکاروں کے حالات اور مبینہ واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم امریکی بحریہ نے جہاز پر تعینات اہلکاروں میں خودکشی کی کوششوں یا ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کے دعووں کی تردید کی ہے۔ یوں امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی اطلاعات اور امریکی بحریہ کے مؤقف میں واضح تضاد موجود ہے۔
سیاست
خوراک کی قلت اور طویل تعیناتی، امریکی بحری اہلکار کن مشکلات میں گھر گئے؟

سیاست · The Frontier Voice





