پاکستان نے عالمی یومِ امن کے موقع پر عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا کہ پائیدار امن کے حصول کا راستہ مذاکرات، سفارت کاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری سے گزرتا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور تنازعات کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پرامن ذرائع اختیار کرنے کی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان ایک مؤثر، جامع اور کثیرالجہتی عالمی نظام کے قیام کے عزم پر قائم ہے، جس کے مرکز میں اقوام متحدہ ہو۔ پاکستان تنازعات کی روک تھام اور حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی حکمت عملی کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں طویل عرصے سے نمایاں کردار ادا کرنے والا پاکستان عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کرتا رہا ہے۔
پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا بھی حوالہ دیا۔ اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے عالمی عزم کی عکاس ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق حل طلب تنازعات علاقائی اور عالمی عدم تحفظ میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ پائیدار امن کے لیے عوام کے حقِ خودارادیت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔
پاکستان نے اس تناظر میں جموں و کشمیر اور فلسطین کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہ پرامن اور خوشحال دنیا کے مشترکہ مقاصد کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔






