اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت، طبی معائنے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ کرائے جائیں اور میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر فیصل کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال لے جانے کے بجائے پمز منتقل کیا گیا، جو ان کے بقول سپریم کورٹ کے حکم کی واضح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتوں سے رجوع کیا ہے اور مختلف معاملات میں متعدد مرتبہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سے رابطہ کیا گیا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق سپریم کورٹ سے 18 اگست کے حکم پر عملدرآمد کی درخواست کی گئی ہے اور کیس کو جلد از جلد، ممکنہ طور پر کل یا پرسوں، سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ انہوں نے چیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کی تھی، تاہم ان کی اور سردار لطیف کھوسہ کی ملاقات سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ہوئی۔ ان کے مطابق رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی کہ فائل اسی روز چیف جسٹس کے سامنے رکھی جائے گی۔

سردار لطیف کھوسہ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور زندگی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت بھی ان کی صحت اور زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پمز کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی اسکین مشین خراب ہے اور سوال اٹھایا کہ اگر ضروری طبی سہولیات دستیاب نہیں تو بانی پی ٹی آئی کو وہاں کیوں منتقل کیا گیا۔

لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ جیل رولز آئین کے تابع ہیں اور سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت صحت سے متعلق معاملے کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے ڈاکٹروں اور اہل خانہ سے متعلق بھی مختلف الزامات اور تحفظات کا اظہار کیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی ڈیل نہیں کی، جبکہ بعض ملاقاتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں تاہم ان کی تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔