پاکستان نے حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں حوثی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات پر حملوں کی شدید مذمت کی اور تمام فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام پاکستان، ایران اور دیگر تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی اور پاکستان وسیع تر خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو دفتر خارجہ نے دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی، جبکہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔






