امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ڈیب ہالینڈ نے کامیابی حاصل کرکے تاریخ رقم کردی ہے۔ وہ کسی امریکی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئی ہیں۔

65 سالہ ڈیب ہالینڈ نے ری پبلکن حریف گریگ ہل کو شکست دی۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے دوران ہی ان کی کامیابی کا اعلان کردیا گیا تھا۔

ڈیب ہالینڈ کا تعلق لگونا پیوبلو قبیلے سے ہے۔ وہ اس سے قبل سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز رہ چکی ہیں۔ اس عہدے پر تقرری کے ساتھ وہ امریکی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بھی بنی تھیں۔

انتخابی مہم کے دوران ڈیب ہالینڈ نے اپنی زندگی کے مشکل حالات اور جدوجہد کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اکیلی ماں کی حیثیت سے انہیں سرکاری صحت پروگرام میڈیکیڈ سے فائدہ اٹھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں 30 سال کی عمر میں انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنی زندگی میں شراب نوشی کی لت سے جدوجہد کا بھی کھل کر ذکر کیا۔ ان کے مطابق 23 سال کی عمر میں انہوں نے نشے سے پاک زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور اپنی زندگی کو بدلنے کے لیے طویل جدوجہد کی۔

ڈیب ہالینڈ 2018 میں امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہونے والی پہلی مقامی امریکی خواتین میں بھی شامل تھیں۔ اسی سال کنساس سے منتخب ہونے والی شارائس ڈیوڈز بھی امریکی کانگریس کی پہلی مقامی امریکی خواتین ارکان میں شامل ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں اس مرتبہ مقامی امریکی امیدواروں کی بڑی تعداد نے بھی حصہ لیا۔ متعلقہ ڈیٹا بیس کے مطابق 30 ریاستوں میں 225 سے زائد مقامی امریکی امیدوار انتخابی میدان میں موجود تھے۔

ڈیب ہالینڈ کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مقامی امریکی برادری کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔