امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں پاکستانی نژاد امریکی امیدواروں نے اہم کامیابیاں حاصل کرلی ہیں۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق 6 پاکستانی نژاد سیاست دان مختلف ریاستوں کے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں، جسے امریکی سیاست میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کامیاب امیدواروں میں مریم صبیح، مریم خان، ڈاکٹر سعود انور، سلمان بھوجانی، ڈاکٹر سلیمان لالانی اور فاروق مغل شامل ہیں۔
ریاست پنسلوانیا میں ڈیموکریٹ امیدوار مریم صبیح نے ایوانِ نمائندگان کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ وہ پاکستانی نژاد امریکی صحافی اور مصنفہ ہیں اور ماضی میں الجزیرہ اور دی ہفنگٹن پوسٹ سمیت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے لکھ چکی ہیں۔ ان کے انتخابی منشور میں بزرگ شہریوں اور مکان مالکان کے لیے ٹیکس میں ریلیف، سرکاری تعلیم کی فنڈنگ اور اسلحے کے محفوظ استعمال سے متعلق قوانین شامل تھے۔
ریاست کنیکٹیکٹ میں مریم خان نے کامیابی حاصل کرکے پہلی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون ریاستی سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی مریم خان 1994 میں امریکا منتقل ہوئی تھیں۔ وہ اس سے قبل ریاستی ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی رہ چکی ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ٹیچر ہیں۔
کنیکٹیکٹ ہی میں ڈاکٹر سعود انور بھی ریاستی سینیٹ کی نشست دوبارہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ وہ 2019 سے ریاستی سینیٹ کے رکن ہیں اور صحتِ عامہ سے متعلق کمیٹی کے شریک سربراہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ پھیپھڑوں کے امراض اور انتہائی نگہداشت کے ماہر معالج ہیں۔
ٹیکساس میں سلمان بھوجانی نے ریاستی ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 92 سے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ری پبلکن امیدوار جے پی وُڈرف کے مقابلے میں تقریباً 67 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
اسی ریاست میں ڈاکٹر سلیمان لالانی بھی ایوانِ نمائندگان کی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بھی تقریباً 67 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ دونوں سیاست دان 2022 میں ٹیکساس اسمبلی کے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی ارکان کے طور پر منتخب ہوئے تھے۔
دوسری جانب ریاست جارجیا میں فاروق مغل نے ایوانِ نمائندگان کے حلقہ نمبر 105 سے کامیابی حاصل کرکے اپنی نشست برقرار رکھی۔ وہ 2022 میں جارجیا کی مقامی اسمبلی کے پہلے پاکستانی نژاد امریکی رکن منتخب ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ ان کامیابیوں کا تعلق امریکی وفاقی کانگریس کے بجائے مختلف ریاستوں کی مقننہ اور سینیٹ سے ہے۔ تاہم ان نتائج کو امریکی سیاسی نظام میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی شرکت اور نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔





