نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے دوسرے روز چین، روس اور بھارت سمیت رکن ممالک کے رہنماؤں نے معاشی تعاون، عالمی تجارت اور جامع ترقی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے برکس ممالک کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی طاقت اس کے تنوع اور باہمی تعاون میں ہے۔ ان کے مطابق برکس دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی، 40 فیصد عالمی جی ڈی پی اور 25 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت کی نمائندگی کرتا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اقتصادی تعاون بڑھانے اور ایک مساوی و پائیدار عالمی نظام کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ہونے کے باوجود چین اور بھارت ایک دوسرے کی طاقتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور باہمی کامیابی کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اجلاس کے پہلے روز برکس رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

چینی صدر شی جن پنگ کی بھارت آمد دونوں ممالک کے تعلقات میں محتاط بہتری کے تناظر میں بھی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سرحدی تنازع کے منصفانہ، معقول اور باہمی طور پر قابل قبول حل کے عزم کا اظہار کیا۔