اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ (IHC) نے متعلقہ حکام کو اجازت نامے یا لائسنس کے تحت قانونی طور پر شیشہ پیش کرنے والے کیفے اور ریسٹورنٹس کے خلاف ’’زبردستی یا سخت کارروائی‘‘ سے روک دیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ جن اداروں کو مجاز حکام کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں اور جو ان اجازت ناموں کے مطابق کاروبار کر رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی جبری کارروائی نہ کی جائے۔

IHC نے ضلعی انتظامیہ کو شیشہ کیفے کے لیے جامع قواعد و ضوابط مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو ایک ماہ کے اندر قانونی فریم ورک مکمل کرنے اور عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اسلام آباد پولیس کو غیر قانونی شیشہ سرگرمیوں اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ عدالت کے مطابق جہاں قانون یا اجازت نامے کی خلاف ورزی ہوگی وہاں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

عدالت نے عوامی صحت اور نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی، منشیات کے استعمال اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری پر بھی زور دیا۔

تحریری حکم میں بتایا گیا کہ Prohibition of Sheesha Smoking Rules 2023 تاحال وفاقی حکومت کے پاس زیر التوا ہیں اور انہیں حتمی شکل نہیں دی گئی۔ کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر کو ہوگی۔