چینی صدر شی جن پنگ ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچ گئے، جہاں وہ بھارت، روس اور ایران سمیت برکس کے رہنماؤں کے ساتھ دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں، عالمی تجارت میں اتار چڑھاؤ اور توانائی کے تحفظ جیسے اہم معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

شی جن پنگ کا یہ 2019 کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہے، جسے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات میں محتاط بہتری کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ 2020 میں متنازع سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپ کے بعد دونوں ممالک نے پروازوں، ویزوں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کی بحالی سمیت تعلقات بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں۔

شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہفتے کو براہِ راست ملاقات بھی متوقع ہے۔ تاہم ہمالیائی سرحد کا تنازع، تجارتی عدم توازن اور دونوں ممالک کی اسٹریٹجک رقابت اب بھی تعلقات میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی نئی دہلی میں موجود ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ، یوکرین تنازع اور عالمی توانائی بحران کے باعث برکس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

بھارت ایک طرف روس اور ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کے ساتھ بھی اپنے تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

برکس کو 2009 میں بڑے ابھرتے ہوئے ممالک کے ایسے فورم کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو عالمی فیصلہ سازی میں مغربی طاقتوں کے غلبے کو کم کرنے کیلئے زیادہ مؤثر کردار چاہتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کے مطابق برکس ممالک دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی اور 40 فیصد عالمی جی ڈی پی کی نمائندگی کرتے ہیں۔