ایران نے سخت امریکی پابندیوں کے باوجود چین کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت جاری رکھنے کے لیے ایک خفیہ مالیاتی نظام قائم کر رکھا ہے۔ رائٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اس نظام کے تحت ایران اپنا خام تیل چین کو فراہم کرتا ہے اور اس کے بدلے ادویات، گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور دیگر اہم مصنوعات حاصل کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی خریدار ایرانی تیل کی رقم براہِ راست ایران کو منتقل کرنے کے بجائے ایک اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) میں جمع کراتے ہیں، جسے مبینہ طور پر چینی وزارتِ تجارت اور ایران کے مرکزی بینک سے منسلک ادارے چلاتے ہیں۔ ایران بعد میں اسی فنڈ میں موجود کریڈٹ کے ذریعے چینی کمپنیوں کو ادائیگیاں کرتا ہے۔
اندازے کے مطابق گزشتہ ایک سال میں اس نظام کے ذریعے 2 سے 2.5 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی، جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کو لاکھوں ڈالر مالیت کے فضائی دفاعی آلات، ادویات اور مواصلاتی سامان کی خریداری کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
یہ نظام مبینہ طور پر کورونا وبا کے دوران ویکسین اور ادویات کی فراہمی سے شروع ہوا تھا، تاہم اب یہ ایران کی دفاعی اور شہری ضروریات پوری کرنے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ چین ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے اور 2025 میں ایران کے 80 فیصد سے زیادہ تیل کی خریداری چین نے کی۔
رائٹرز کے مطابق ایران اور چین کا یہ طریقہ کار امریکی پابندیوں اور ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے بچنے کی کوشش ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔






