سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے گزشتہ 10 سال کے ریفنڈز کی مکمل تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلی ہیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں 197 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال ریفنڈز کی ادائیگی میں 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے لیے ریفنڈز کی 390 ارب روپے کی حد مقرر کر رکھی ہے، جس سے زیادہ رقم ریفنڈز کی مد میں اپنے پاس نہیں رکھی جا سکتی۔

ایف بی آر کے مطابق گزشتہ مالی سال مجموعی طور پر 500 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے تھے۔ کمیٹی نے ریفنڈز کی ادائیگی اور گزشتہ 10 سال کے اعداد و شمار کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔