کراچی: 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک بحریہ نے دوارکہ کے ساحلی علاقے میں ایک اہم بحری کارروائی کی، جسے تاریخ میں آپریشن دوارکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف دوارکہ میں موجود بھارتی ریڈار تنصیب تھا، جو بھارتی بحری اور فضائی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرتی تھی۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں پاکستان نیوی کے جنگی جہازوں نے کراچی سے تقریباً 320 سے 370 کلومیٹر دور بھارتی ساحل کی جانب پیش قدمی کی اور رات کے وقت دوارکہ کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ دستیاب تاریخی حوالوں کے مطابق کارروائی کی قیادت اس وقت کے کموڈور ایس ایم انور نے کی تھی۔
آپریشن کے دوران پاکستانی بحری جہازوں نے دوارکہ میں موجود ریڈار اسٹیشن سمیت اہم تنصیبات پر توپوں سے فائرنگ کی۔ پاکستان نیوی کے ایک تحقیقی جریدے میں بھی 1965ء کی جنگ کے دوران دوارکہ پر پاکستانی بحری جہازوں کی بمباری اور آبدوز پی این ایس غازی کی کارروائی کو بحری تاریخ کا اہم واقعہ قرار دیا گیا ہے۔
آپریشن دوارکہ کا ایک اہم مقصد بھارتی ریڈار صلاحیت کو متاثر کرنا اور بھارتی بحریہ پر دباؤ بڑھانا تھا۔ بعض پاکستانی عسکری حوالوں کے مطابق پی این ایس غازی کی موجودگی نے بھی بھارتی بحری نقل و حرکت کو محدود رکھنے میں کردار ادا کیا۔
یہ کارروائی 1965ء کی جنگ میں پاکستان نیوی کی نمایاں سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی 1965ء کی جنگ کے حوالے سے پاکستان نیوی کی جانب سے دوارکہ آپریشن کو اس کی تاریخی بحری صلاحیت اور آپریشنل تیاری کی مثال کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔
نوٹ: مختلف تاریخی حوالوں میں کارروائی کی تاریخ 7 اور 8 ستمبر کے حوالے سے بیان ہوئی ہے؛ Dawn کے تاریخی ریکارڈ میں حملہ 7 ستمبر 1965ء کو بتایا گیا ہے، جبکہ بعض پاکستانی روایات اسے 8 ستمبر کی شب سے منسلک کرتی ہیں۔






