کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی سماعت مکمل ہوگئی، جس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا بیان قلمبند کیا گیا۔ سماعت کے دوران پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار، گولی کے زخموں، تصاویر، شواہد کی حفاظت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق اہم تفصیلات کمیشن کے سامنے پیش کی گئیں۔

ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو بتایا کہ وہ جون 2022 سے پولیس سرجن کے عہدے پر کام کر رہی ہیں اور کراچی و ٹھٹھہ میں اب تک 99 قبرکشائیاں کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق لاش کے معائنے کے دوران سر سے پاؤں تک زخموں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اہم مشاہدات کی تصاویر بنائی جاتی ہیں، جبکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ زخم موت سے پہلے آئے یا بعد میں۔

سماعت کے دوران میر رضا کے پوسٹ مارٹم سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔ جسٹس عمر سیال نے نشاندہی کی کہ اس کیس میں پوسٹ مارٹم سوئپر کی جانب سے کیے جانے کی بات سامنے آئی تھی۔ ڈاکٹر سمعیہ نے وضاحت کی کہ پوسٹ مارٹم کرنے والا شعیب راشد سوئپر نہیں بلکہ لیب اسسٹنٹ ہے اور پوسٹ مارٹم کی تربیت حاصل کرچکا ہے، جس کی تربیت انہیں خود دی گئی تھی۔

ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق انہوں نے میر رضا کے زخموں، خصوصاً گولی لگنے اور نکلنے کی جگہ کی تصاویر طلب کی تھیں، تاہم مطلوبہ تصاویر مکمل طور پر دستیاب نہیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مردہ خانے میں جسم کے پچھلے حصے کی تصاویر بھی موجود نہیں تھیں۔

ان کے مطابق یکم اگست کو انہیں معلوم ہوا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ جمع کرادی گئی ہے۔ بعد ازاں رپورٹ کی کاپی ملنے پر انہوں نے اس میں درج بعض مشاہدات، خصوصاً دل کی تصویر سے متعلق نکات پر سوالات اٹھائے۔ ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ انہیں رپورٹ پر باقاعدہ مشاورت کا موقع نہیں ملا تھا۔

سماعت میں شواہد اور سیمپلز کی حفاظت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈاکٹر سمعیہ نے کہا کہ سیمپلز حاصل کرنے کے بعد انہیں محفوظ کیا جاتا ہے اور مختلف اعضا کی الگ الگ پریزرویشن کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ہائی پروفائل کیسز میں سیمپلز کی جانچ میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

سماعت کے دوران جبران ناصر کے سوالات پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مداخلت پر جسٹس عمر سیال نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کو سوالات کرنے چاہئیں اور اس طرح کارروائی نہیں چلائی جاسکتی۔

سماعت کے اختتام پر جوڈیشل کمیشن نے سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار کو طلب کرلیا، جبکہ کارروائی فی الحال روک دی گئی۔