صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام لسانی یا ثقافتی بنیادوں کے بجائے انتظامی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے نئے صوبوں کے معاملے پر مثبت سوچ کا اظہار خوش آئند ہے۔
اپنے بیان میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ نئے صوبے کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ملک اور عوام کے مستقبل کا مسئلہ ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی جانب سے نئے صوبوں کے حوالے سے کی جانے والی گفتگو کو بھی قابلِ غور قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کو اس اہم قومی معاملے پر سنجیدہ بحث آگے بڑھانی چاہیے۔ ان کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کی دو بڑی اسمبلیاں نئے صوبوں کی حمایت میں قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 1972 سے رورل اور اربن کوٹے کی تقسیم نافذ ہے، جبکہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس قائم کرکے عوامی مسائل کا حل تیزی سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 سال بعد ملک کے انتظامی ڈھانچے کو نئی ضروریات کے مطابق تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر آئی پی پی نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کی پہلے ہی حمایت کر چکی ہے۔ ان کے مطابق وہ نئے صوبوں کے معاملے پر تمام فریقین کے پاس جانے اور سب کی رائے سننے کے لیے تیار ہیں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔






