امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے باوجود جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور مذاکرات کیلئے ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
لاہور میں حکومتی وفد کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے دھرنے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ دھرنے جاری رہیں گے تو بات چیت میں مزہ آئے گا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی اعداد و شمار کی بنیاد پر حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کی تجاویز دے گی۔ ان کے مطابق بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہے، جبکہ روٹی کی قیمت 10 روپے کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کے مطابق دھرنا ایک شہر سے شروع ہوکر 15 سے 20 شہروں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کسی ذاتی ایجنڈے کیلئے نہیں بلکہ عوام کے روزمرہ مسائل، خصوصاً مہنگائی کے خلاف ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے جمع کیے جاچکے ہیں اور جنگی حالات کے باوجود لیوی میں اضافہ کیا گیا، جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھا۔






