اسلام آباد (افضل شاہ یوسفزئی):- پمز زچہ و بچہ اسپتال کی نیونیٹل نرسری میں آتشزدگی سے متعلق الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ نے کئی اہم سوالات اٹھا دیے۔

رپورٹ کے مطابق نرسری کو علیحدہ ڈسٹری بیوشن بورڈ، مخصوص فیڈرز اور انفرادی سرکٹ بریکرز سے بجلی فراہم کی جارہی تھی، جبکہ حادثے کے وقت سسٹم پر اوور لوڈ بھی نہیں تھا۔ آتشزدگی کے بعد الیکٹریکل اور اے سی سرکٹس کے بریکرز ٹرپ شدہ پائے گئے. رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ حفاظتی آلات نے غیر معمولی برقی حالت پر متاثرہ سرکٹس منقطع کرکے آگ کو دیگر وارڈز تک پھیلنے سے روکنے میں مدد دی.

تاہم اہم سوال یہ ہے کہ اگر اوور لوڈ نہیں تھا اور حفاظتی بریکرز نے بروقت کام کیا تو آگ کیسے لگی اور اتنی تیزی سے کیوں پھیلی؟

رپورٹ میں برقی خرابی کی اصل وجہ یا آگ کے حتمی منبع کی واضح نشاندہی بھی سوالات کو برقرار رکھتی ہے۔ 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد اصل ذمہ داری کے تعین کے لیے الیکٹریکل نظام کے ساتھ فائر سیفٹی، آکسیجن سسٹم، اے سی، الارم اور اسٹاف کی ایمرجنسی تیاری کی بھی جامع تحقیقات ضروری ہیں.