امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد گزشتہ رات بھر ایک بار پھر شدید حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے خطے میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، سمندری تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز شامل تھے۔

ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے جواباً اردن، عراق اور بحرین میں موجود امریکی مفادات اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ اردن کی فوج نے کہا کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو روک لیا گیا، جبکہ بحرین نے بھی ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

عراق کے اربیل میں امریکی اڈے پر حملے کے حوالے سے بھی ایرانی دعوے سامنے آئے، تاہم ان حملوں میں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ امریکی حکام کے ابتدائی جائزے کے مطابق اردن میں امریکی اہلکاروں کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

شادی کی تقریب پر حملہ، درجنوں افراد زخمی

ایرانی ہلال احمر کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب سیرک کے علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے حملے میں 5 افراد جاں بحق اور کم از کم 50 زخمی ہوئے۔ ایرانی میڈیا نے زخمیوں کی تعداد 68 تک بتائی، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں ایک 4 سالہ بچہ بھی شامل ہونے کی اطلاع ہے۔ اس واقعے پر امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

یہ حملے گزشتہ جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی سب سے بڑی فوجی جھڑپوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ کئی ہفتوں تک دونوں جانب سے فائرنگ میں نسبتاً وقفہ رہا، تاہم گزشتہ رات کے حملوں نے خطے میں دوبارہ بڑے تصادم کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کا جواب مزید وسیع اور شدید انداز میں دیا جائے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز اور ایران کی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔