اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں سانحۂ پمز، رہائشی علاقوں میں ہاسٹلز، اسلام آباد میں پانی کی قلت، پارکنگ، پاسپورٹ کے اجرا، ویزا پالیسی، کالے شیشوں اور ایئرپورٹس پر مسافروں کی چیکنگ سمیت مختلف اہم امور زیر بحث آئے۔
سانحۂ پمز پر تحقیقات اور آڈٹ رپورٹ طلب
کمیٹی اجلاس میں سانحۂ پمز کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ چیئرمین کمیٹی نے دریافت کیا کہ پمز اسپتال کی آخری بار الیکٹریکل اور فائر سیفٹی انسپکشن کب کی گئی تھی اور انسپکشن کے بعد آخری سرٹیفکیٹ کب جاری ہوا۔
چیئرمین سی ڈی اے کے مطابق پمز اسپتال کا آخری آڈٹ ستمبر 2025 میں ہوا تھا۔ کمیٹی نے پمز کی آڈٹ رپورٹ بھی طلب کر لی۔
سینیٹر عابد شیر علی نے اجلاس میں کہا کہ پمز اسپتال میں آگ بجھانے کے لیے پانی کا مسئلہ بھی سامنے آیا تھا۔
اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت کا انکشاف
چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 250 ملین گیلن پانی کی طلب ہے جبکہ دستیابی میں تقریباً 125 ملین گیلن یومیہ شارٹ فال ہے۔
ان کے مطابق راول ڈیم سے روزانہ 5 ملین گیلن پانی حاصل کیا جا رہا ہے جبکہ مزید ڈیمز اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ شاہدرہ ڈیم مکمل ہونے کے بعد مزید 10 ملین گیلن یومیہ پانی دستیاب ہونے کی توقع ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے نے یہ بھی بتایا کہ راول ڈیم میں سیوریج کا پانی شامل ہونے کے مقامات موجود ہیں، جبکہ بنی گالہ سمیت 3 سے 4 مقامات سے پانی ڈیم میں شامل ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
رہائشی علاقوں میں غیر قانونی ہاسٹلز ختم کرنے کا مطالبہ
کمیٹی اجلاس میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی ہاسٹلز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی نے غیر قانونی ہاسٹلز کے خلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی۔
چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت کی ہدایات کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔
پاسپورٹ کے اجرا پر ارکان کے سوالات
سینیٹر عابد شیر علی نے شکایت کی کہ ایک شہری کو فیملی کا پاسپورٹ بنوانے کے لیے وزارت کا این او سی لازمی قرار دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس قانون کے تحت ایسے معاملات وزارت کو بھیجے جا رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام سے قواعد و ضوابط اور قانونی بنیاد واضح کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ ماضی میں ایسے افراد کو بھی پاسپورٹ جاری ہوئے جو اس کے اہل نہیں تھے، جبکہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد میں بھی کمی کی گئی ہے۔
افغان شہریوں کے ویزوں پر بھی بحث
سینیٹر طلحہ محمود نے کاروباری افراد اور طلبہ کے لیے ویزا پالیسی میں سہولت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان کے لیے ماضی میں مختلف کیٹیگریز میں ویزے جاری کیے جاتے رہے ہیں اور موجودہ صورتحال حساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان ویزا پالیسی کے معاملے پر وزارت خارجہ سے بھی بات کی جانی چاہیے۔
طلال چوہدری نے اجلاس میں دہشت گردی کے حوالے سے افغان شہریوں سے متعلق بعض دعوے بھی کیے، جنہیں ان کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
پارکنگ بحران بھی زیر بحث
سی ڈی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کے 7 مقامات پر الیکٹرانک پارکنگ کا منصوبہ جاری ہے اور گاڑی کے پارکنگ ایریا میں موجود رہنے کا وقت ڈیش بورڈ پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
سینیٹر عابد شیر علی نے شہر میں پارکنگ کی کمی اور نئے پلازوں کی تعمیر پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے پلازوں کو زیرِ زمین پارکنگ کے بغیر این او سی نہیں دینا چاہیے۔
ایئرپورٹس پر مسافروں کی چیکنگ پر بھی سوالات
ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ عام طور پر مسافروں کے موبائل فون یا سوشل میڈیا کو چیک نہیں کیا جاتا، البتہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق معلومات رکھنے والے مسافروں کی جانچ کی جاتی ہے۔
طلال چوہدری نے اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بیرون ملک سفر کے دوران سوشل میڈیا چیک کیے جانے کا سامنا ہوا۔ اجلاس میں آف لوڈ کیے جانے والے بعض مسافروں کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔






