سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے برطانیہ میں رہائش کے لیے درخواست دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ان کے طویل عرصے سے جاننے والے سیاسی تجزیہ کار نے موجودہ حالات میں انہیں افغانستان واپس آنے کا مشورہ دیا ہے۔

2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے۔ ان کے افغانستان چھوڑنے کے بعد امریکہ نے سابق افغان صدر کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات یا رابطوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا۔

افغانستان کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنے والے امریکی ادارے سیگار (Special Inspector General for Afghanistan Reconstruction) نے اشرف غنی سے ان الزامات پر وضاحت طلب کی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ افغانستان سے روانگی کے وقت اپنے ساتھ بڑی مقدار میں رقم لے گئے تھے۔

سیگار کی تحقیقات میں 15 اگست 2021 کو افغان جمہوریہ کے خاتمے کے دن اشرف غنی پر عائد مالی بے ضابطگیوں اور رقوم کی منتقلی سے متعلق الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ اگست 2022 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اشرف غنی نے اپنے وکیل کے ذریعے سیگار کے پوچھے گئے 56 سوالات میں سے صرف 6 کے جوابات دیے تھے۔

تاہم سیگار سے بات کرنے والے عینی شاہدین نے ان دعوؤں کی تائید نہیں کی کہ اشرف غنی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان یا رقم لے کر گئے تھے۔ اشرف غنی نے بھی ان الزامات کی تردید کی تھی۔

ایک انٹرویو میں سابق افغان صدر نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی آزاد بین الاقوامی یا اقوام متحدہ کی تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق اشرف غنی نے برطانیہ میں رہائش کے لیے درخواست دی ہے۔ اس معاملے پر برطانوی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ نے معاملہ وزارتِ داخلہ کو بھیج دیا، جبکہ وزارتِ داخلہ نے انفرادی معاملات پر عمومی طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

اشرف غنی کو افغانستان واپس آنے کا مشورہ

اشرف غنی کو برسوں سے جاننے والے سیاسی تجزیہ کار طارق فرہادی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اور اشرف غنی کی عمر کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے افغانستان واپس آنا بہتر راستہ ہو سکتا ہے۔

طارق فرہادی نے افغان تاریخ کی مثال دیتے ہوئے سابق بادشاہ امان اللہ خان کا حوالہ دیا، جنہیں 1929 میں افغانستان چھوڑنا پڑا تھا۔ امان اللہ خان بعد ازاں برطانوی ہند اور اٹلی میں رہے اور 1960 میں زیورخ میں انتقال کر گئے۔

ان کے مطابق امان اللہ خان کئی دہائیوں تک ملک سے باہر رہے اور اس عرصے میں افغانستان کے سیاسی حالات پر ان کا اثر محدود رہا۔ طارق فرہادی کا کہنا ہے کہ افغان سیاسی رہنماؤں کی ملک واپسی اور افغانستان کے اندر موجودگی سیاسی اور فکری خلیج کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

طارق فرہادی کے مطابق حالیہ علاقائی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اشرف غنی کو متحدہ عرب امارات چھوڑنے کا کہا گیا، جس کے بعد ان کی جانب سے کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اشرف غنی جس ملک میں بھی رہائش اختیار کریں گے، انہیں ممکنہ طور پر سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے پابندیوں کا سامنا رہے گا۔