برطانوی حکومت کے مطابق یکم جولائی 2024 سے جولائی 2026 کے دوران 80 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو برطانیہ سے واپس بھیجا گیا، جسے حکومت نے تقریباً ایک دہائی کی بلند ترین سطح قرار دیا ہے۔ ان کارروائیوں میں غیرملکی مجرموں، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں اور ایسے افراد کی واپسی شامل ہے جنہیں برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
برطانوی حکومت کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 10 ہزار غیرملکی مجرموں کو بھی واپس بھیجا گیا، جبکہ مجموعی طور پر ملک بدری اور واپسی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے تازہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2026 کو ختم ہونے والے ایک سال میں 39,007 افراد کو برطانیہ سے واپس بھیجا گیا۔ ان میں تقریباً تین چوتھائی افراد رضاکارانہ طور پر واپس گئے جبکہ ایک چوتھائی کو حکام نے جبری طور پر واپس بھیجا۔ اسی عرصے میں 9,723 جبری واپسیوں کا ریکارڈ سامنے آیا۔
غیرملکی مجرموں کے خلاف کارروائی
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2026 کو ختم ہونے والے سال میں 5,858 غیرملکی مجرموں (Foreign National Offenders) کو واپس بھیجا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے اور 2017 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ 2025 کے دوران واپس بھیجے گئے غیرملکی مجرموں میں منشیات سے متعلق جرائم سب سے عام تھے۔
برطانوی حکومت نے امیگریشن حراستی مراکز کی گنجائش میں بھی 40 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ حکومت کے مطابق Haslar اور Campsfield امیگریشن ریموول سینٹرز میں توسیع کے بعد مجموعی گنجائش 290 سے بڑھ کر تقریباً 1,000 بیڈز تک پہنچ جائے گی۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ حکومت ان افراد کی واپسی کا عمل مزید تیز کرنا چاہتی ہے جنہیں ملک میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں، جبکہ حکومت نے امیگریشن انفورسمنٹ کے لیے مزید وسائل اور عملہ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
غیر قانونی کام کے خلاف کارروائیاں بھی تیز
جنوری سے جون 2026 کے دوران برطانوی امیگریشن انفورسمنٹ ٹیموں نے 7,270 غیر قانونی کام کے خلاف کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں 4,756 گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومت کے مطابق یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کارروائیوں میں 31 فیصد اور گرفتاریوں میں 20 فیصد اضافہ ہے۔






