ایران نے واضح کر دیا ہے کہ عمان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا امریکا سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ امریکا کے مستقبل کے رویے اور اس کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کی اصلاح سے مشروط ہوگا۔

اس سے قبل امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے حوالے سے 60 روزہ عارضی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے، بحری راستوں سے بارودی سرنگیں ہٹانے اور جہازوں پر اضافی فیس عائد نہ کرنے جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔

تاہم ایران کے تازہ بیان نے واضح کر دیا ہے کہ صرف عمان کے ساتھ کسی بھی مفاہمت سے آبنائے ہرمز فوری طور پر بحال نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے ایران اپنی شرائط پوری ہونے کو ضروری قرار دے رہا ہے۔