اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، جس میں آگ لگنے کی ایک ممکنہ وجہ سامنے آئی ہے۔
پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں ایک انکیوبیٹر کے ساتھ موجود آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر آگ کم شدت کی تھی تاہم بعد میں تیزی سے پھیل گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ سے پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں داخل ہوا، جبکہ بچوں کی اموات آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے کے باعث ہوئیں۔
اس واقعے میں متعدد نومولود بچے جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات میں آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشنر کمپریسر کا پھٹنا بھی بتائی گئی تھی، تاہم پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں نیبولائزر پھٹنے اور آکسیجن کے آگ پکڑنے کو واقعے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں عملے کی عدم موجودگی، دروازے بند ہونے اور ریسکیو ٹیموں کے دیر سے پہنچنے کے الزامات عائد کیے۔ تاہم پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے عملے کی غیر موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا اور اسپتال میں فائر سیفٹی سسٹم بھی موجود تھا۔
دوسری جانب سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کے بعد بچوں کو فوری طور پر آئی سی یو منتقل کیا گیا۔
واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ضلعی انتظامیہ پہلے ہی 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے چکی ہے، جسے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔






