امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں کوئی بھی صدر بننے کے لیے تیار نہیں، اور یہی صورتحال ان کے لیے ایک مسئلہ بن چکی ہے۔

جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ ایران میں اس وقت کس سے بات کی جائے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہو چکی ہے، جبکہ دوسری سطح کی قیادت بھی ختم ہو چکی ہے اور تیسری سطح کی قیادت کے بعض ارکان بھی مارے جا چکے ہیں۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب بحریہ، فضائیہ، ریڈار اور بعض دفاعی و فنی آلات کی تیاری کی سابقہ صلاحیت موجود نہیں رہی۔

ٹرمپ نے ایرانی قیادت سے متعلق طنزیہ انداز میں کہا کہ ایران ایسا ملک ہے جہاں کوئی صدر نہیں بننا چاہتا۔ ان کے بقول جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ صدر کون بنے گا تو جواب ملتا ہے: "نہیں، میں صدر نہیں بننا چاہتا۔"

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایرانی حکومت میں کس سے بات کی جائے۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کے تازہ دعووں نے خطے میں ایران کی سیاسی اور عسکری صورتحال کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔