امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف حملوں کا سلسلہ ختم نہیں کیا، اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف مزید مسلح کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
وسکونسن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول اور تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران پر معاشی دباؤ مؤثر ثابت ہو رہا ہے اور ایران کے پاس مذاکرات کی میز پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا مقصد دباؤ برقرار رکھنا ہے، جبکہ واشنگٹن آئندہ صورتحال کے مطابق اپنے اقدامات کا فیصلہ کرے گا۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں میں ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور جہاز رانی کے شعبے شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران سے لین دین کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے پاسدارانِ انقلاب کے پانچ سینئر عہدیداروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر تک انعامات کا بھی اعلان کیا ہے۔






