اسلام آباد کے پمز اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔

پمز انتظامیہ کے مطابق ڈی این اے شناخت مکمل ہونے کے بعد تمام جاں بحق بچوں کی میتیں ان کے والدین اور لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، جبکہ اسپتال کی دستاویز کے مطابق وارڈ میں مجموعی طور پر 15 بچے زیرِ علاج تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ چلڈرن وارڈ کے ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے لگی اور آکسیجن کنکشنز کے باعث انتہائی تیزی سے پھیل گئی۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور بچوں کو محفوظ مقامات اور آئی سی یو منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ آگ کے پھیلنے میں آکسیجن سپلائی، گیس لائنز اور پلاسٹک آلات کا کردار ہوسکتا ہے، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

دوسری جانب ریسکیو ذرائع نے اسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض فائر ہوزز میں ضروری کپلنگز موجود نہیں تھے، فائر پوائنٹ پر پانی کی عدم دستیابی اور ہنگامی انخلا کے راستوں پر تالے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے ضلعی انتظامیہ نے 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور متعلقہ حکام و اداروں کے سربراہان کو وزیراعظم ہاؤس طلب کیا۔ اجلاس میں واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اس سانحے کے بعد سابق وفاقی وزرا فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ڈی این اے شناخت کے بعد تمام بچوں کی میتیں والدین کے حوالے کیے جانے سے لواحقین کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوگیا، تاہم اب توجہ انکوائری رپورٹ پر مرکوز ہے کہ آگ کیسے لگی، حفاظتی انتظامات میں کہاں کوتاہی ہوئی اور اس المناک سانحے کا ذمہ دار کون تھا۔