وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے 57ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کیا اور وفاقی حکومت پر عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو ان کی بہن اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے اس حکم پر درست طریقے سے عمل نہیں کیا۔ ان کے مطابق عمران خان کو رات کے اندھیرے میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جس کے باعث ان کی صحت سے متعلق مسائل پیدا ہوئے۔ انہوں نے عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے حوالے سے جاری احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنا عدلیہ اور ججز کی توہین کے مترادف ہے اور پوری قوم کی نظریں عدالتوں پر ہیں۔
خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم کا اعلان
کابینہ اجلاس میں صوبائی حکومت نے خواتین کے لیے الیکٹرک بائیکس اسکیم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق کالجز اور یونیورسٹیوں کی طالبات سمیت ملازمت پیشہ خواتین کو میرٹ کی بنیاد پر ای وی بائیکس فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اسکیم کا پہلا مرحلہ جلد شروع کیا جائے گا، جبکہ بعد ازاں ای وی رکشوں کی اسکیم بھی متعارف کرائی جائے گی۔ ان کے مطابق الیکٹرک رکشے صاف اور سرسبز ماحول کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بسز کی اسکیم پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
سہیل آفریدی نے اے ڈی پی میں شامل عوامی مفاد کی اسکیموں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور سیاسی غفلت سے بالاتر ہو کر غیر روایتی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر مزید تیزی سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال خیبرپختونخوا کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔






