12 اگست 1948 کا دن خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ کے ان واقعات میں شمار ہوتا ہے جسے آج بھی سانحہ بابڑہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کے قیام کے تقریباً ایک سال بعد موجودہ ضلع چارسدہ کے علاقے بابڑہ میں پیش آیا، جہاں خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ افراد کے ایک احتجاجی اجتماع پر پولیس فائرنگ ہوئی۔ واقعے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے حوالے سے آج تک مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

واقعے کا پس منظر کیا تھا؟

قیامِ پاکستان کے بعد صوبہ سرحد، جسے آج خیبرپختونخوا کہا جاتا ہے، شدید سیاسی کشمکش کا مرکز بن گیا تھا۔ اس وقت خدائی خدمتگار تحریک، جس کی قیادت خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کر رہے تھے، صوبے کی ایک اہم سیاسی قوت تھی۔

1947 کے بعد صوبائی سیاسی حکومت میں تبدیلی آئی اور ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت ختم کر کے عبدالقیوم خان کی قیادت میں نئی حکومت قائم کی گئی۔ خدائی خدمتگار تحریک نے اس سیاسی تبدیلی اور اپنے رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔

جولائی 1948 میں صوبائی حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس بھی نافذ کیا جس کے تحت حکومت کو افراد کو بغیر وجہ بتائے حراست میں لینے اور ان کی جائیداد ضبط کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوگئے۔ اس اقدام نے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔

12 اگست 1948 کو بابڑہ میں کیا ہوا؟

12 اگست کو خدائی خدمتگار تحریک کے کارکن اپنے گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق مظاہرین چارسدہ سے بابڑہ گراؤنڈ کی طرف گئے۔

بابڑہ پہنچنے کے بعد پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔ یہاں سے واقعے کی تفصیلات کے بارے میں تاریخی بیانیے ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتے ہیں۔

سرکاری طور پر جاری کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار میں 15 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 50 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تاہم اسی زمانے کی بعض اخباری رپورٹس نے اس سے کہیں زیادہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بیان کی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ کلچرل ریسرچ کے ایک تاریخی مطالعے میں Morning News کی 19 اگست 1948 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے 300 ہلاکتوں اور 400 سے 500 زخمیوں کا ذکر موجود ہے۔

دوسری جانب خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ ذرائع ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں میں بتاتے ہیں۔ بعض روایات میں یہ تعداد 600 سے زائد تک بیان کی گئی ہے۔ اس لیے واقعے کی مجموعی ہلاکتوں کی ایک متفقہ تعداد موجود نہیں۔

عبدالقیوم خان کا مؤقف کیا تھا؟

تاریخی ریکارڈ میں اس وقت کے صوبائی وزیرِاعلیٰ عبدالقیوم خان کے اسمبلی میں دیے گئے بیان کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ایک تحقیقی تاریخی کتاب میں ان کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی اور مظاہرین کے منتشر نہ ہونے پر فائرنگ ہوئی۔ اسی ریکارڈ میں ان کے ایک سخت بیان کا بھی حوالہ موجود ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پولیس کا گولہ بارود ختم نہ ہوتا تو مزید لوگ مارے جاتے۔

اس کے بعد کیا ہوا؟

بابڑہ کے واقعے کے بعد خدائی خدمتگار تحریک اور حکومت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ ستمبر 1948 میں مرکزی حکومت نے خدائی خدمتگار تحریک پر پابندی عائد کر دی اور تحریک سے وابستہ متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ چارسدہ کے سردریاب میں تحریک کے مرکز کو بھی صوبائی حکومت نے ختم کر دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ بابڑہ کا واقعہ مختلف سیاسی اور تاریخی حلقوں میں مختلف انداز سے بیان ہوتا رہا۔ خدائی خدمتگار اور قوم پرست حلقے اسے ریاستی طاقت کے استعمال اور ایک بڑے قتل عام کے طور پر یاد کرتے ہیں، جبکہ بعض تاریخی حوالوں میں واقعے کے حالات، مظاہرین کی نوعیت اور ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔

آج بھی تعداد پر اختلاف کیوں ہے؟

بابڑہ واقعے کی سب سے اہم تاریخی بحث ہلاکتوں کی تعداد ہے۔

ایک طرف سرکاری اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد بہت کم بتائی گئی، دوسری جانب اس وقت کی بعض اخباری رپورٹس اور بعد کی خدائی خدمتگار روایات میں ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ بیان ہوئی۔

بابڑہ واقعہ آج کیوں اہم ہے؟

بابڑہ آج بھی خیبرپختونخوا کی سیاسی اور تاریخی یادداشت کا حصہ ہے۔ ہر سال 12 اگست کو مختلف سیاسی اور قوم پرست حلقے واقعے کے متاثرین کو یاد کرتے ہیں اور اسے خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔ 2026 میں بھی بابڑہ کے شہداء کی یاد میں تقریبات منعقد ہوئیں اور خدائی خدمتگار تحریک کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

بابڑہ کی تاریخ صرف ہلاکتوں کی تعداد کا سوال نہیں، بلکہ یہ 1947 کے بعد نئی ریاست، صوبائی سیاست، خدائی خدمتگار تحریک اور خیبرپختونخوا میں بدلتے سیاسی حالات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم تاریخی واقعہ ہے۔