بھارتی میڈیا کے مطابق ملک میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر جاری نوجوانوں کے احتجاج کے بعد بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پرادھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دھرمیندر پرادھان نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم نریندر مودی کو بھجوایا اور بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔
وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر بھارت میں نوجوانوں اور طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر چکا ہے۔ مظاہرین تعلیمی نظام میں شفافیت، پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق احتجاج کا آغاز نئی دہلی میں ہوا، تاہم بعد میں اس کا دائرہ ممبئی، پٹنہ، کیرالا اور گوا سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ احتجاج میں شریک نوجوانوں کا ایک اہم مطالبہ دھرمیندر پرادھان کا استعفیٰ بھی تھا۔
وزیرِ تعلیم کے عہدہ چھوڑنے کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ بھارتی حکومت امتحانی نظام اور پرچہ لیک سے متعلق نوجوانوں کے دیگر مطالبات پر کیا اقدامات کرتی ہے اور آیا استعفے کے بعد احتجاج کی شدت میں کمی آتی ہے یا تحریک مزید مطالبات کے ساتھ جاری رہتی ہے۔






