امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، اور امریکی محکمہ خزانہ تہران کی آمدنی، مالیاتی نظام اور تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کے لیے کئی ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق امریکی حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ آئندہ اقدامات کیا ہوں گے، تاہم واشنگٹن کے پاس ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے کئی راستے موجود ہیں۔

امریکا ایرانی تیل کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے والی چینی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ چین ایران کی تیل برآمدات کا 90 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے، اس لیے چینی خریداروں یا بینکوں کے خلاف پابندیاں ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہیں۔

واشنگٹن ایرانی رقوم کی منتقلی میں مدد دینے والی کرنسی ایکسچینج کمپنیوں اور مالیاتی ثالثوں پر بھی مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ایران تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم عموماً چینی یوآن میں وصول کرتا ہے اور اسے دوسری کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف مالیاتی ذرائع استعمال کرتا ہے۔

ایک اور آپشن ایران کے ساتھ معمولی نوعیت کی تجارت کرنے والے غیر ملکی اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنا ہے۔ ایسی صورت میں غیر ملکی کمپنیوں اور بینکوں کو ایران کے ساتھ کاروبار اور امریکی مالیاتی نظام تک رسائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکومت ایرانی حکومت کے بیرونِ ملک موجود بعض اثاثوں کو صرف منجمد کرنے کے بجائے ضبط کرنے پر بھی غور کر سکتی ہے، تاہم یہ اقدام قانونی اور سفارتی طور پر زیادہ پیچیدہ ہوگا۔

اس کے علاوہ واشنگٹن ایران کے مبینہ ’خفیہ بحری بیڑے‘ کے خلاف کارروائی کا دائرہ بھی وسیع کر سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر صرف بحری جہازوں کے بجائے ان کمپنیوں، ٹرمینلز اور دیگر سہولیات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو ایرانی تیل کی شپنگ میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

تاہم ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ عالمی منڈی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ ایرانی تیل کی برآمدات میں بڑی کمی سے عالمی خام تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باوجود سفارتی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ایران پاکستان، ترکیہ اور قطر کے ساتھ رابطوں میں ہے جبکہ امریکا نے آسٹریا اور یونان سمیت بعض یورپی ممالک سے بھی رابطے بڑھائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان ممالک کی کوشش ہے کہ واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جائے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ممالک کا کردار فی الحال باقاعدہ ثالثی کے بجائے سفارتی رابطہ کاری تک محدود ہے۔