مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر ناصر بٹ نے پیپلز پارٹی پر سیاسی بلیک میلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کی منظوری کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا رہا، جس کے باعث مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے اسے موقع دیا۔
ڈان نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ناصر بٹ نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کو یہ کہا جاتا تھا کہ اگر اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور تعاون اپنی جگہ، تاہم کسی جماعت کو دباؤ کے ذریعے فیصلے منوانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
بلوچستان حکومت کے حوالے سے ناصر بٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی ڈھائی سالہ مدت مکمل کرچکی ہے اور اب مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی سے بلوچستان حکومت واپس لے گی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو بلوچستان حکومت دی تھی اور طے شدہ سیاسی فارمولے کے تحت ڈھائی سال مکمل ہونے کے بعد حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔
گفتگو کے دوران آزاد کشمیر کے انتخابات پر پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ اور ناصر بٹ کے درمیان بھی مکالمہ ہوا۔ ناصر بٹ نے سوال کیا کہ کیا حسن مرتضیٰ آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں، جس پر حسن مرتضیٰ نے جواب دیا کہ انتخابات مسلم لیگ (ن) نے جیتے ہیں تاہم نتیجہ ان کی مرضی کے مطابق آیا ہے۔
حسن مرتضیٰ نے آزاد کشمیر کی انتظامیہ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) پر سوال اٹھایا، جبکہ ناصر بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ چھ ماہ سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں انتخابات، انتظامی اختیار اور سیاسی اثر و رسوخ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔






