عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن نے اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ بھی جاتا ہے، تاہم جوہری پروگرام یا بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھی گئی تو اسرائیل دوبارہ حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

ایلی کوہن کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک بڑی غلطی ہوگی اور ایسی صورت میں ایران کو ایک بار پھر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ نہ کیا ہوتا تو ایران ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا۔

ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام دو سے چار سال پیچھے چلا گیا ہے۔

ایلی کوہن کے تازہ بیان سے خطے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتیں پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔