ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا، دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانا ہے۔

ترک صدر کے مطابق یہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم کیے گئے حقِ دفاع کی توثیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں دیگر برادر ممالک کے لیے بھی اس معاہدے میں شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی صلاحیت اور تعاون کو مزید بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق معاہدے کی ایک اہم شق یہ ہے کہ تین میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق دفاعی تعاون تینوں ممالک کی شراکت داری کو نئی سمت دے گا۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی معاہدے کو علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تعلقات اور مشترکہ سیاسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔