معروف تاجر میر رضا کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھردے عدالت میں پیش ہوگئے، جہاں عدالت نے ان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کردی۔
سٹی کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے روبرو سماعت کے دوران احمد بھردے اپنے وکیل خالد ممتاز ایڈووکیٹ کے ہمراہ پیش ہوئے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی جانب سے موکل کو ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے باعث عبوری ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔
عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض احمد بھردے کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی حاضری کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنا لیا۔
احمد بھردے کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کیس کی تفتیش میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور پولیس کی جانب سے طلب کیے جانے پر پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سابق تفتیشی افسر کی جانب سے موکل کو ہراساں کیا گیا۔
دوسری جانب مدعی مقدمہ کے وکیل جبران ناصر نے پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے سلسلے میں اب تک 35 سے زائد گواہوں اور دیگر افراد کو طلب کیا جاچکا ہے۔
جبران ناصر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس مرحلے پر ضمانت ملنے سے کیس سے منسلک دیگر افراد بھی ضمانت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت ہو یا نہ ہو، احمد بھردے تفتیش میں شامل ہونے کے پابند ہیں۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ تفتیش جاری رہنے تک وہ شہر سے باہر نہیں جا سکتے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے احمد بھردے کے وکیل کو آئندہ سماعت پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی کہ وہ عبوری ضمانت کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں یا اسے جاری رکھیں گے۔






