کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تفتیشی حکام اب تک 41 افراد کے بیانات قلمبند کر چکے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول کے دوستوں، بزنس پارٹنر، گیسٹ ہاؤس کے عملے اور دیگر متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ پولیس نے ان افراد کی فہرست بھی تیار کرلی ہے جنہیں میر رضا نے رقم ادا کرنی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جس گیسٹ ہاؤس میں واقعے سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں، اس کی ملکیت اور کرائے پر دیے جانے سے متعلق مکمل تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ مکان کے مالک نے ایک شخص کو بروکر کے ذریعے مکان کرائے پر دیا، جس نے بعد ازاں اسے ایک دوسرے شخص کو گیسٹ ہاؤس کے لیے کرائے پر دے دیا۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 160 کے تحت کسی بھی شخص کو تحقیقات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ میر رضا کی دونوں میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ رپورٹ بھی پولیس کو موصول ہوچکی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیس میں آئی پی ڈی آر کی تفصیلات اور مقتول کی اسمارٹ واچ کی فرانزک رپورٹ اہم قرار دی جا رہی ہیں، تاہم ان رپورٹس کی تکمیل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
پولیس مختلف شواہد، بیانات اور فرانزک رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے واقعے کی کڑیاں جوڑنے اور قتل کے محرکات تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔






