وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال، سی ٹی ڈی کی کارکردگی، جاری تحقیقات، انفرا اسٹرکچر اور مستقبل کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کالعدم عسکریت پسند اور باغی تنظیمیں سندھ کے لیے بدستور سیکیورٹی چیلنج ہیں، تاہم صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے مطابق 2025ء میں سندھ میں دہشتگردی کے 37 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ 2026ء میں اب تک یہ تعداد کم ہو کر 9 رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں دہشتگردی کے واقعات میں تقریباً 76 فیصد کمی ہوئی۔

آئی جی سندھ کے مطابق 2026ء میں رپورٹ ہونے والے 9 واقعات میں سے 7 کا سراغ لگا کر ان کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی نے رواں سال 918 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے دوران 87 مبینہ دہشتگرد گرفتار کیے گئے جبکہ مختلف مقابلوں میں 4 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران 2 ہزار کلوگرام سے زائد دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں اور اہم تنصیبات پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث متعدد دہشتگرد نیٹ ورکس کو توڑا گیا۔ شمالی سندھ میں ریلوے ٹریکس پر حملوں کے منصوبوں میں ملوث ایک نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

اجلاس میں کراچی ٹریننگ سینٹر حملے کی تحقیقات میں پیش رفت سے بھی وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا۔ آئی جی سندھ کے مطابق مقدمے میں 9 ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ تحقیقات کے دوران متعدد سہولت کاروں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

بریفنگ کے مطابق سی ٹی ڈی فیوژن سینٹر نے انٹیلی جنس معلومات کے حصول اور ڈیجیٹل تحقیقات میں بہتری پیدا کی ہے، جبکہ انتہا پسند سرگرمیوں سے منسلک سیکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک یا رپورٹ بھی کیا گیا۔

اجلاس میں جدید انٹیلی جنس سافٹ ویئر، ڈیجیٹل فرانزک ٹولز، کرائم اینالیٹکس پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

حکام کے مطابق سندھ بھر میں سی ٹی ڈی کے انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ سکھر میں علیحدہ سی ٹی ڈی کمپلیکس کی تعمیر بھی شروع کردی گئی ہے۔