امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کی پالیسی کالعدم قرار دے دی ہے۔

مین ہٹن کی وفاقی عدالت کی جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ یہ پالیسی وفاقی امیگریشن قانون کے خلاف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔

یہ پابندی جنوری 2026 میں نافذ کی گئی تھی اور اس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا، یوراگوئے، بوسنیا، البانیہ سمیت ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور کیریبین کے متعدد ممالک کے شہری متاثر ہوئے تھے۔

امریکی حکومت کا مؤقف تھا کہ ان ممالک سے آنے والے بعض تارکینِ وطن کے امریکی حکومتی وسائل پر انحصار کرنے کا خطرہ زیادہ ہے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ صرف کسی شخص کی قومیت کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزا روکنا قانونی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

عدالت کا فیصلہ ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں امیگریشن حقوق کی تنظیموں، متاثرہ ویزا درخواست گزاروں اور امریکی شہریوں نے اپنے اہلِ خانہ کے ویزوں کے حوالے سے قانونی کارروائی کی تھی۔

فیصلے کے بعد پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے، تاہم عملی طور پر امریکی حکومت کب اور کس طریقہ کار کے تحت پروسیسنگ بحال کرتی ہے، یہ اہم سوال برقرار ہے۔

اہم وضاحت: یہ فیصلہ 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں سے متعلق پابندی کے خلاف ہے؛ اسے تمام امریکی ویزوں یا سیاحتی و طلبہ ویزوں پر عائد عمومی پابندی ختم ہونے کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔