بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے والدین کو نظر انداز کرنے اور پہلی بیوی کو قانونی طور پر طلاق دیے بغیر دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کے مطابق پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں کٹوتی کی جائے گی اور کٹوتی کی گئی رقم براہِ راست پہلی بیوی کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق پہلی بیوی کو اس مالی معاونت کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست دینا ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اگر طلاق کا معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تب بھی تنخواہ میں کٹوتی کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔

ہمنتا بسوا سرما کے مطابق اس اقدام کا مقصد قانونی کارروائی مکمل ہونے میں لگنے والے وقت کے دوران پہلی بیوی کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آسام حکومت نے والدین کو نظر انداز کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایسے ملازمین کی تنخواہ سے 10 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ کے اعلان کے بعد یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کی ازدواجی اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق حکومتی پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس اقدام کا اطلاق بھارتی ریاست آسام کے سرکاری ملازمین پر ہوگا۔