فلسفے میں پی ایچ ڈی خاتون کے اپنے شوہر اور دو کمسن بچیوں پر مبینہ تشدد کے کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلا کے دلائل پر دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی اور عدالت میں قہقہے بھی گونج اٹھے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے آمنہ سعید نامی خاتون کے خلاف مقدمے میں ان کے والد کی جانب سے دائر درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو تین مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے جسم پر تشدد کے نشانات آئے۔ وکیل کے دلائل پر عدالت میں قہقہے گونجنے پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ "آپ خود بھی ہنس رہے ہیں، پوری عدالت بھی ہنس رہی ہے۔"
عدالت نے استفسار کیا کہ "یہ خاتون کوئی کمانڈو ہے کیا؟" وکیل نے جواب دیا کہ اگر خاتون نے غصے میں شوہر کو مارا بھی ہے تو وہ گھر کی لارڈ شپ ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مبینہ تشدد کے بعد خاتون اپنے شوہر کو گاڑی میں اسپتال لے کر گئی تھی؟ وکیل نے بتایا کہ خاتون کے قبضے سے ایک لوہے کا راڈ بھی برآمد ہوا، جس کے بارے میں الزام ہے کہ اسے مبینہ طور پر تشدد کے لیے تیار کرکے رکھا گیا تھا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آمنہ سعید نے فلسفے میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور معاملہ خاندانی نوعیت کا ہے، جس کے بعض پہلو عدالت کے سامنے بیان نہیں کیے جا رہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ پی ایچ ڈی کے علاوہ خاتون کیا کام کرتی ہیں، جبکہ تفتیشی افسر سے یہ بھی پوچھا گیا کہ گرفتاری کے وقت خاتون کا ذہنی توازن چیک کیا گیا تھا یا نہیں۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ خاتون کا ذہنی توازن چیک نہیں کروایا گیا۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔






