اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا گیا ہے کہ 2021 سے 2025 کے دوران ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 2 لاکھ سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ صرف 2025 میں 66 ہزار 402 کیسز سامنے آئے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن آسیہ ناز تنولی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ، نیشنل پولیس بیورو اور قومی کمیشن برائے حقوقِ نسواں کے حکام نے بریفنگ دی۔
ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں 174 خصوصی انسدادِ زیادتی عدالتیں اور 134 ضلعی انسدادِ زیادتی بحران سیلز قائم کیے جا چکے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق، زیادتی کے مقدمات میں سزا کی شرح سندھ میں 22 فیصد، بلوچستان میں تقریباً 12 فیصد، اسلام آباد میں 6.9 فیصد، خیبرپختونخوا میں تقریباً 6 فیصد جبکہ پنجاب میں تقریباً 4 فیصد ہے۔
نیشنل پولیس بیورو نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ صرف 2025 میں رپورٹ ہونے والے 66 ہزار 402 واقعات میں 3 ہزار 815 جنسی تشدد، 983 گینگ ریپ، 470 غیرت کے نام پر قتل، ایک ہزار 332 گھریلو تشدد کے تحت قتل، 2 ہزار 912 زخمی کرنے اور 27 ہزار 105 اغوا کے واقعات شامل ہیں۔
اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوقِ نسواں کے حکام نے ادارے کو درپیش وسائل اور افرادی قوت کی کمی پر بھی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق ادارے کی 81 منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 45 پر تعیناتیاں ہیں جبکہ سیکریٹری کی اہم نشست بھی تاحال خالی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ملک کے چاروں صوبوں میں شادی کی کم از کم عمر یکساں مقرر کی جائے اور خواتین و بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔






