افغانستان کی جدید تاریخ میں 27 اپریل 1978 کا دن ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے، جب ملک میں ہونے والی فوجی بغاوت، جسے "ثور انقلاب" کہا جاتا ہے، نے برسراقتدار حکومت کا خاتمہ کر دیا اور افغانستان کو سیاسی عدم استحکام، خانہ جنگی اور عالمی طاقتوں کی کشمکش کے ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔
"ثور" افغانستان کے شمسی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے، اور چونکہ یہ انقلاب اسی مہینے میں رونما ہوا، اس لیے اسے ثور انقلاب کا نام دیا گیا۔
اس وقت افغانستان کے صدر سردار محمد داؤد خان تھے، جنہوں نے 1973 میں بادشاہ ظاہر شاہ کا تختہ الٹ کر افغانستان کو جمہوریہ قرار دیا تھا۔ تاہم، پانچ سال بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) سے وابستہ فوجی افسران نے اقتدار پر قبضے کے لیے کارروائی شروع کی۔
27 اور 28 اپریل 1978 کو کابل میں صدارتی محل سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے۔ شدید جھڑپوں کے بعد صدر داؤد خان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور اپنے خاندان کے متعدد افراد سمیت مارے گئے۔ اس طرح افغانستان میں شاہی خاندان کے بعد قائم ہونے والی جمہوری حکومت بھی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
انقلاب کے بعد نور محمد ترہ کئی نے اقتدار سنبھالا اور افغانستان میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی۔ نئی حکومت نے زرعی اصلاحات، زمینوں کی تقسیم، خواتین کی تعلیم اور دیگر سماجی تبدیلیوں سمیت متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، تاہم ان پالیسیوں کو ملک کے مختلف مذہبی، قبائلی اور سماجی حلقوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومت مخالف تحریکیں مختلف علاقوں میں ابھرنے لگیں اور حالات تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھنے لگے۔ بڑھتے ہوئے بحران کے باعث دسمبر 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی، جس نے تقریباً ایک دہائی پر محیط جنگ کی بنیاد رکھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ثور انقلاب صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے افغانستان کی داخلی سیاست، علاقائی سلامتی اور عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کے توازن کو بھی گہرے انداز میں متاثر کیا۔
آج بھی مؤرخین ثور انقلاب کو افغانستان کی جدید تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شمار کرتے ہیں، کیونکہ اس کے بعد شروع ہونے والے سیاسی اور عسکری سلسلے نے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان، وسطی ایشیا اور عالمی سیاست پر بھی دیرپا اثرات مرتب کیے۔






