عراق نے اپنی سرزمین سے سعودی عرب پر حملوں کے دعوؤں پر باقاعدہ ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک کسی بھی فریق نے ایسے الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے۔

عراقی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراق کی سرزمین کسی حملے کے لیے استعمال ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو اس کے واضح ثبوت پیش کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت ملکی خودمختاری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے جامع سیکیورٹی منصوبے پر کام جاری ہے۔

اس سے قبل عراق میں امریکی اور سعودی کارروائیوں کے بعد عراقی قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں امریکی و سعودی حملوں کی مذمت کی گئی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ عراق کا مؤقف واضح ہے کہ ملک کے خلاف ہر قسم کی دشمنانہ کارروائی ناقابلِ قبول ہے، جبکہ عراق کی سرزمین پر سیکیورٹی سے متعلق فیصلے اور کارروائیاں صرف عراقی حکومت کا اختیار ہیں۔

دوسری جانب عراقی وزیراعظم کے دفتر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ حکومت عراق کو علاقائی تنازعات سے دور رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملکی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے سفارتی اور قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں مبینہ طور پر ایران نواز ملیشیاؤں کے مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کو سعودی تیل تنصیبات پر مبینہ ڈرون حملوں کے ردعمل کے طور پر بیان کیا گیا، جبکہ عراقی ملیشیا کے مطابق مختلف فضائی حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔