افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں واپسی اور امریکی فوجی انخلا کو پانچ سال مکمل ہونے پر امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں ملک کی موجودہ صورتحال کو دنیا کے بدترین انسانی حقوق اور انسانی بحرانوں میں شمار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مجموعی انسانی امداد میں 2022ء کے بعد سے تقریباً 70 فیصد کمی آچکی ہے، جس کے باعث پہلے سے مشکلات کا شکار افغان عوام کو مزید سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
طالبان حکومت کے تحت خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ قانونی تحفظات محدود کیے جا رہے ہیں جبکہ خواتین کو مختلف شعبوں میں ملازمتوں سے بھی روکا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول جانے کی اجازت نہیں۔ یونیسکو کے مطابق تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیاں اس وقت اسکول سے باہر ہیں۔
خواتین کی صورتحال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ویمن‘ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 10 میں سے 7 خواتین اپنی ذہنی صحت کو خراب یا بہت خراب قرار دیتی ہیں۔
دوسری جانب ’سیو دی چلڈرن‘ کی رواں ہفتے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریباً ہر 10 میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جس سے ملک میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔






