معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی کم ہونے اور سیاسی رابطوں کے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں۔

نجم سیٹھی کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کو پی ٹی آئی کی حمایت درکار ہوسکتی ہے، جبکہ اس معاملے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے رابطہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نئے صوبوں کے قیام کے حامی رہے ہیں، تاہم پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت ان سے ملاقات اور مشاورت کے بغیر حکومت کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوگی۔

تجزیہ کار کے مطابق اسی تناظر میں عمران خان تک پی ٹی آئی قیادت کی رسائی اور ان سے بات چیت کی کوششیں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات بھی ممکن دکھائی دے رہی ہے۔

نجم سیٹھی نے 18 اگست کو سپریم کورٹ میں عمران خان سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے تشکیل دیے گئے بینچ کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق بینچ میں شامل ججز آزاد نوعیت کے ہیں اور ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کے لیے کوئی بہتر فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پی ٹی آئی کی حمایت درکار ہوئی تو اس کے بدلے عمران خان کے لیے کسی ممکنہ ریلیف پر غور کیے جانے کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات سیاسی رابطوں کے عمل کا ابتدائی مرحلہ بن سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں سیاسی رابطوں اور عدالتی پیش رفت سے ہی صورتحال مزید واضح ہوگی۔