اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں واحد زندہ بچ جانے والی نومولود بچی کی خالہ نے واقعے سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔
بچی کی خالہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وہ خود موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے اپنی بھانجی کو خود وارڈ سے نکالا۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد انہوں نے ایک لیڈی ڈاکٹر کو وارڈ سے باہر آتے دیکھا، تاہم اندر موجود ڈاکٹرز اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے نکل گئے۔
خاتون کے مطابق وہ اپنی بھانجی کو بچانے کے لیے آگ کے درمیان وارڈ میں داخل ہوئیں، جس دوران ان کے بالوں اور کندھے پر بھی آگ لگی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس وقت اندر کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پمز انتظامیہ کی جانب سے بعد میں مختلف دعوے کیے گئے، کبھی کہا گیا کہ بچی کو نرس نے نکالا اور کبھی یہ کہا گیا کہ انہوں نے غلط بچی اٹھائی ہے۔
پمز حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے 15 جاں بحق جبکہ ایک بچہ محفوظ رہا۔






