امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک نئی جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، تاہم واشنگٹن یا تہران کی جانب سے تاحال اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ جنگ بندی میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جس کے بعد مذاکرات اور تکنیکی سطح کے اجلاس شروع کیے جا سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والا مفاہمتی سمجھوتا بعد ازاں اختلافات اور باہمی الزامات کے باعث متاثر ہوگیا تھا۔ اگست کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز اور مذاکرات کے معاملے پر کشیدگی برقرار رہی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی آزادانہ آمدورفت کی بحالی سے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی پر بھی نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں آبنائے سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت انتہائی محدود رہی ہے۔

تاہم اہم بات یہ ہے کہ نئی جنگ بندی کے حوالے سے فی الحال یہ خبر روسی میڈیا کے دعوے تک محدود ہے اور امریکا یا ایران کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے معاہدے کی حتمی شرائط اور اس پر عمل درآمد کے بارے میں مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔