بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اڈیالہ جیل سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، تاہم شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال میں ان کا طبی معائنہ کیا گیا اور چند گھنٹوں بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب مناسب سیکیورٹی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے راستے اور اطراف میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو پمز لے جایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق میڈیکل ٹیم میں آنکھوں کے ماہر، ماہر امراض قلب اور فزیشن شامل تھے اور ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دیا۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی طبی معائنے کے دوران موجود رہیں۔ بعد ازاں عمران خان کو تقریباً صبح 5 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے کیا حکم دیا تھا؟

اس معاملے کی اہم کڑی سپریم کورٹ کا 18 اگست 2026 کا حکم ہے۔ عدالت کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے میڈیکل پینل میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کی شمولیت بھی قرار دی تھی۔

رپورٹس کے مطابق عدالت نے عمران خان کو 16 ستمبر تک طبی نگرانی میں رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی، جبکہ اہلخانہ سے ملاقات اور ان کے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے سے متعلق بھی ہدایات دی گئی تھیں۔

حکومت نے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی

سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ کسی قیدی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم موجودہ قانونی طریقہ کار اور جیل نظام کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

تاہم 20 اگست کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے حکومتی نظرثانی درخواست واپس کر دی اور کاغذات نامکمل ہونے پر اعتراضات عائد کیے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ضروری ترامیم کے بعد درخواست دوبارہ دائر کر سکتی ہے۔

پمز منتقل کرنے کی حکومت کی وجہ کیا تھی؟

وفاقی حکومت کے مطابق شفا انٹرنیشنل اسپتال کے راستے اور اسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی صورتحال پیدا ہوئی، جس کی وجہ سے مقام تبدیل کرکے عمران خان کو پمز لے جایا گیا۔

رات کے وقت اسلام آباد میں سیکیورٹی انتہائی سخت رہی۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے اطراف میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور عمران خان کی ممکنہ آمد کے پیش نظر راستوں کو محدود کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر متعدد مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس میں یہی بتایا گیا کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا گیا ہے، تاہم بعد میں حکومت نے واضح کیا کہ طبی معائنہ پمز میں ہوا تھا۔

عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کا مؤقف

دوسری جانب عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔

عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق وہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں عمران خان کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہے، لیکن عمران خان وہاں نہیں پہنچے۔ ان کے مطابق انہیں بعد میں معلوم ہوا کہ عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو پمز منتقل کرنا، ان کے ذاتی معالج کو طبی معائنے میں شامل نہ کرنا اور چند گھنٹوں بعد جیل واپس بھیج دینا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ پارٹی کی جانب سے عدالتی کارروائی اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ خان کا مؤقف

عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ وہ پمز میں ان کے ساتھ موجود تھیں۔ ان کے مطابق عمران خان نے جیل میں تنہائی اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر شکایات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان بظاہر جسمانی طور پر مستحکم نظر آئے، جبکہ ان کی آنکھ کا بھی معائنہ کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے تاہم میڈیکل معائنے کے بعد انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیے جانے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

اب اصل سوال کیا ہے؟

اس پورے معاملے میں اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پمز میں ہونے والا طبی معائنہ سپریم کورٹ کے حکم کی مکمل تعمیل تصور ہوگا یا نہیں؟

ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ مناسب سیکیورٹی کے تحت ماہر ڈاکٹروں سے مکمل معائنہ کرایا گیا اور عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اور عمران خان کے خاندان کا کہنا ہے کہ عدالت نے واضح طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اور ذاتی معالج کی شمولیت کا حکم دیا تھا۔

یہ معاملہ اب ممکنہ طور پر دوبارہ عدالت کے سامنے جا سکتا ہے۔