اسلام آباد: (افضل شاہ یوسفزئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین سینیٹر ناصر بٹ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کارکردگی، زیرِ التوا ہاؤسنگ منصوبوں اور مختلف ترقیاتی اسکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران ڈی جی ایف جی ایچ ایف نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں 1,700 فلیٹس کا گرے اسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ان تمام فلیٹس کی سو فیصد بکنگ بھی مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن اراضی پر چھوٹے فلیٹس تعمیر کیے جانے تھے، وہاں بکنگ کم ہونے کے باعث بورڈ کی منظوری سے ان پلاٹس کو کمرشل قرار دیا گیا ہے، اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن فلیٹس کی تکمیل پر خرچ کی جائے گی۔
اجلاس میں سینیٹر جان محمد نے فیڈرل ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج تک ادارہ ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ کاغذوں میں منصوبے مکمل دکھائے جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو ختم کرکے غیر ضروری افراد کو فارغ کرنے کی سفارش کی جائے، کیونکہ ادارے میں مافیا بیٹھا ہوا ہے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر بٹ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ ادارہ اب تک کوئی منصوبہ مکمل نہیں کر سکا۔ اس موقع پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے بھی ایف جی ایچ ایف کو ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادارے کو برقرار رکھنا ہے تو اس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض منصوبے تکمیل کے قریب ہیں، جنہیں جلد عوام کے حوالے کیا جائے گا۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کو بھی ان اداروں میں شامل سمجھتے ہیں جن کی کارکردگی پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے کئی منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں اور عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2019 میں مکمل ہونے والے بعض منصوبے تاحال زیرِ التوا ہیں۔
اجلاس میں اسکائی گارڈن منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ 2011 میں اس منصوبے پر ازخود نوٹس لیا گیا تھا، جس کے بعد معاملہ نیب کو بھیج دیا گیا، اور اسی وجہ سے منصوبے میں طویل تاخیر ہوئی۔
قائمہ کمیٹی نے اسکائی گارڈن منصوبے کے معاملے پر اگلے اجلاس میں اس وقت کے چیف جسٹس کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ گرین انکلیو ون منصوبے کے حوالے سے چیئرمین نیب کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا گیا۔





