غزہ میں جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بورڈ آف پیس کے تمام فریقوں نے غزہ میں امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے جنگ بندی پر عملدرآمد کے لیے ایک تفصیلی روڈ میپ جاری کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فریقین نے غزہ پٹی سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، معمولاتِ زندگی کی بحالی، تعمیر نو، ترقیاتی منصوبوں کے آغاز اور فلسطینی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
بورڈ آف پیس کے مطابق اسرائیل کو شرم الشیخ پروٹوکول کے تحت اپنی ذمہ داریاں فوری طور پر پوری کرنا ہوں گی، جبکہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کو عسکری کارروائیاں بند کرنے کی پابندی کرنا ہوگی۔
روڈ میپ کے تحت تمام متعلقہ فریق 14 روز کے اندر عملدرآمد کا فریم ورک تیار کریں گے، جس کے بعد ایک قومی کمیشن غزہ کے سول اور انتظامی امور سنبھالے گا۔ حماس اور دیگر فلسطینی گروپس نے بھی شہری اور سیکیورٹی امور مرحلہ وار قومی کمیشن کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
بورڈ آف پیس نے مزید کہا کہ بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن معاہدے پر عملدرآمد اور ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی کریں گے، جبکہ قومی کمیشن کو تمام سرکاری اداروں اور بنیادی خدمات کی بحالی اور مؤثر انتظام کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
روڈ میپ کے مطابق قومی کمیشن اور بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی کے بعد بھاری ہتھیار تحویل میں لیے جائیں گے۔ تاہم یہ عمل اسرائیلی افواج کے حملے رکنے اور غزہ سے مرحلہ وار انخلا سے مشروط ہوگا۔
دوسری جانب حماس نے بھی روڈ میپ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ثالثی فریقوں کی تجاویز پر مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش آئی ہے، تاہم معاہدے پر مکمل عملدرآمد اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی اور انخلا کے وعدوں کی پابندی سے مشروط ہوگا۔






