آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی پولنگ کا عمل جاری ہے، جس پر ہر انتخاب میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب انتخابات آزاد کشمیر کے ہیں تو لاہور، راولپنڈی، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے۔
اس کی وجہ آزاد کشمیر اسمبلی کی 12 مہاجر نشستیں ہیں، جو پاکستان میں مقیم رجسٹرڈ کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔ یہ نظام 1947 میں تقسیمِ ہند اور پہلی کشمیر جنگ کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے جموں و کشمیر کے باشندوں کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کے مقصد سے قائم کیا گیا، جسے بعد ازاں 1974 کے عبوری آئین میں آئینی تحفظ دیا گیا۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 45 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر جبکہ 12 مہاجر نشستوں پر پاکستان میں مقیم رجسٹرڈ مہاجرین ووٹ ڈالتے ہیں۔ ان نشستوں پر بھی انتخابی عمل عام انتخابات کی طرح ہوتا ہے، تاہم پولنگ اسٹیشن پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم کیے جاتے ہیں۔
یہ 12 نشستیں حالیہ برسوں میں سیاسی بحث کا موضوع بھی بنی ہوئی ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض مہاجر حلقوں میں ووٹروں کی تعداد عام حلقوں کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے مساوی نمائندگی پر سوالات اٹھتے ہیں، اسی لیے بعض سیاسی و سماجی حلقے انتخابی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، اس نظام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں 1947 کے مہاجرین کی سیاسی شناخت اور مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک ان کی نمائندگی کی آئینی ضمانت ہیں، اس لیے ان کی موجودہ حیثیت برقرار رہنی چاہیے۔
اسی پس منظر میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی پولنگ کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں صرف رجسٹرڈ کشمیری مہاجر ووٹر ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔






